12 جولائی 2011 - 19:30

ملتان…شدید گرمی اور حبس میں آلودہ پانی، غیر معیاری مشروبات اور گلے سڑے پھلوں کے استعمال کے باعث لوگوں کی بڑی تعداد پیٹ کے امراض میں مبتلا ہو کر اسپتالوں کا رخ کرتی ہے۔

ابنا: ملتان کے نشتر اسپتال میں روز سینکڑوں افراد گیسٹرو کے مرض میں مبتلا ہو کر آتے ہیں جن میں زیادہ تعداد بچوں کی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک بستر پر دو دو مریض نظر آتے ہیں نشتر اسپتال ملتان میں جون کے مہینے میں گیسٹرو کے 27 سو سے زائد مریض لائے گئے جن میں سے 26 سو سے زائد بچے شامل تھے جنہیں اسپتال میں داخل کیا گیا۔ ڈسٹرکٹ اسپتال خانیوال میں 15 روز کے دوران پیٹ کے مرض میں مبتلا تین افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 183 مریض اسپتال لائے گئے۔ چلڈرن اسپتال وہاڑی میں ایک بچی جبکہ ڈسٹرکٹ اسپتال میں دو افراد ہلاک ہوئے۔ گیسٹرو کی صورتحال پر ایم۔ ایس نشتر اسپتال ڈاکٹر ظفر علوی نے بتایا کہ نشتر اسپتال میں گیسٹرو سے کسی مریض کی موت واقع نہیں ہوئی تاہم بستروں کی کمی ضرور ہے صحت کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری اور شہریوں کا حق ہے۔ حکومت اسپتالوں کی ضروریات کو پورا کر کے مریضوں کی مشکلات میں کمی لاسکتی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169